نئی دہلی،7؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی)تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے 100 دن پورے ہونے کے پس منظر میں کانگریس نے ہفتہ کے روز حکومت پر یہ دعویٰ کیاہے کہ کسانوں پر اذیت کرتے ہوئے حکومت نے اس تحریک کوبدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔
عوامی بحث سے غائب ہونے کیلئے وہ مختلف چالوں اور سازشوں کا سہارا لے رہی ہے۔مرکزی اپوزیشن پارٹی نے معاشرے کے مختلف طبقات بشمول ملک کے متوسط طبقے سے بھی کسانوں کی حمایت کرنے کی اپیل کی اور مطالبہ کیا کہ تینوں قوانین کوواپس لیا جائے اور اس کے بعد بات چیت کرکے نئے قوانین بنائے جائیں۔
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ملک کی سرحد پر جن کے بیٹے رہتے ہیں ان کیلئے دہلی کی سرحد پرکیل رکھی گئی ہے۔پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے صحافیوں کوبتایاہے کہ کسانوں کے احتجاج کو 100 دن ہوچکے ہیں۔ ان 100 دنوں میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس دوران کسانوں کو ذلیل کیاگیا، لیکن ابھی بھی کسان بڑی تعداد میں بیٹھے ہیں۔ وہ حکومت کی فون کال کاانتظار کر رہے ہیں جس کا وزیر اعظم نے وعدہ کیاتھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے، لیکن یہ خبروں سے غائب ہے۔حکومت اس مکالمہ کی تحریک کو ختم کرنے کیلئے بہت ساری تدبیریں اور سازشیں اپنائے ہوئے ہے۔کھیڑا نے کہا ہے کہ ہمیں کسانوں کی بھی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ وہ کام کر رہے ہیں۔انھوں نے کہاہے کہ کسانوں کوحکومت سے امید نہیں ہے، لیکن ملک سے امید ہے۔اگر لوگ بھی خاموشی سے تعاون کریں گے تو یہ ملک کیلئے بہت اچھاہوگا۔